نئی دہلی،10؍ ستمبر (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) راجستھان کے الور میں مبینہ گورکشکو ں کے ذریعہ رکبر خان کے قتل کے معاملے میں رکبر خان کے والد نے کیس کو دہلی ٹرانسفر کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے سپریم کورٹ میں عرضی دائر کی ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ الوار میں ان کے مقدمے کا غیر جانبدارانہ ٹرائل نہیں ہو سکتا ہے۔ گذشتہ7 ستمبر کو بھیڑ کے ذریعہ تشدد کی روک تھام کے معاملہ پر سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے تمام ریاستوں کو اس کی ہدایات کو نافذ کرنے کے لئے ایک ہفتہ کا مزید وقت دیا تھا۔ عدالت نے راجستھان کے الور میں مبینہ گورکشکوں کے ذریعہ رکبر کے قتل کے معاملہ میں ریاستی حکومت سے قصوروار حکام کے خلاف کی گئی کاروائی سے متعلق رپورٹ طلب کی تھی۔ سماعت کے دوران 9ریاستی حکومتوں اور 3مرکز کے زیر اہتمام خطوں نے سپریم کورٹ میں حلف نامہ دائر کیا تھا۔ عدالت نے باقی ریاستوں کو بھی ایک ہفتہ میں حلف نامہ دائر کرنے کا حکم دیا تھا۔ عدالت نے کہا تھا کہ ریاستی حکومتیں13ستمبر تک حکم پر عمل کریں نہیں تومتعلقہ ریاستوں کے چیف سکریٹریوں کو ہم طلب کریں گے۔ سپریم کورٹ نے تمام ریاستوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ اپنی ویب سائٹ پر عدالت کے حکم پر عمل آوری کی رپورٹ اپ لوڈ کریں۔ گذشتہ 17جولائی کوسپریم کورٹ نے کہا تھا کہ کسی بھی شخص کو قانون اپنے ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جا سکتی ہے۔ سپریم کورٹ نے پارلیمنٹ سے اپیل کی تھی کہ وہ بھیڑ کے ذریعہ کئے گئے قتل کے لئے قانون بنائیں۔ عدالت نے ملک بھر میں ہوئے ہجومی تشدد کی مذمت کی تھی۔ عدالت نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے کہا تھا کہ بدنظمی کی صورتحال میں ریاستی حکومتوں کوکام کرنا ہوگا۔ کسی بھی تشدد کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔ ریاستی حکومتوں کو بھیٹر سے نمٹنا ہوگا اور قانون پر عمل آوری کے لئے اقدامات کرنے ہوں گے۔